unflinching idealism ... since 1997 archivessitemapabouthelpfeedback
all are welcome to read, write and think
  • Home
  • InFocus
  • Themes
  • Columns
  • Articles
  • Fiction
  • iLogs
  • Gallery
  • Unplugged
  • Writers
  • Interactors
  • Tags
Sign in | Join Chowk
web chowk
« September 2008 »
SMTWTFS
1 2 3 4 56
7 8 9 10 11 12 13
14 15 16 17 18 19 20
21 22 23 24 25 26 27
28 29 30

Recently by echoboom

  • Sufism..Hussain Nasr
  • Paradise Lost Smyrna 1922: The Destruction of Islam’s City of Tolerance by Giles Milton
  • Mohsin Changaizi: The 20 year old Poet who has taken Urdu Poetry by Storm
  • It’s the Turkish secularists who look backwards
  • VAFADAARI mein shaikh O Brhaman kee..
  • Wedding of Ahmedinejad`s son....
  • Around the world, much is expected from Sen. Barack Obama as he begins race for White House
  • Prince Charles, defender of Islam

  • Some of the most haunting melodies--on video
  • 1783..When America was defeated by Muslims
  • Muslim Travelers and Mapmakers during the Middle Ages
  • CNN: 1.5 Million converts to Islam since 9/11
  • The Ben Ladens
  • 50,0000 converting to islam each year..British Home Secretary
  • From Mayfair to Mecca
  • Christ in Islam

iLog Categories

  • All
  • Personal
  • Fiction
  • Poetry
  • Travel
  • Work
  • Sports
  • Books
  • Movies
  • Music
  • Philosophy
  • Politics
  • Humor
  • Religion
  • Chowk
  • Other
  • echoboom
  • Intro & Favorites
  • iLogs
  • Gallery
  • Interacts

Amina Bilal Philipps

Posted: Mar 13, 2008 Thu 02:44 pm     Views: 199    Interacts: 1



ابو امینہ بلال فلپس

1990
کی دھائی کی خلیجی جنگ میں سعودی عرب میں مقیم امریکی فوجیوں میں سے تقریباً 3000 فوجیوں نے اسلام قبول کر لیا۔اخباری رپورٹوں میں ان مبلغین کا بہت کم ذکر کیا گیا ہے جن کی کوششوں سے غیر مسلم فوجیوں میں اسلام کی روشنی پھیلی ۔ان مبلغین میں سب سے اہم کردار جس شخص نے ادا کیا وہ کینیڈا کے نومسلم عالم ڈاکٹر فلپس تھے۔
جس وقت سعودی عرب میں غیر مسلم فوجی صدام حسین کے خلاف جنگ میں مصروف تھے ، ڈاکٹر فلپس اپنی ان تھک محنت کے ساتھ غیر مسلم افواج کے خیموں میں جاجا کر ان کے دلوں کو فتح کر نے میں مصروف تھے ۔ ڈاکٹر بلال فلپس آجکل دوبئی کی امریکن یونیورسٹی میں علم کا نور پھیلانے میں مصروف ہیں ۔ یہاں پر ان کی زند گی کا مختصر سا تعارف پیش کیا جاتا ہے ۔
ڈاکٹر فلپس کی پیدائش جمیکا میں ہوئی لیکن کینیڈا میں پلے بڑھے اور تعلیم حاصل کی ۔مذہباً عیسائی تھے ۔ کالج سے بائیو کیمسٹری میں گریجویشن کی ۔ اسی دور میں کمیونزم سے متاثر ہوئے اور چین کا دورہ بھی کیا ۔ انڈیا کے اسلامک وائس (The Islamic Voice , Vol: 12 -07 No: 139 ) کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے اس تجربے کے متعلق بتایا : " اس دور میں امریکہ میں سیاہ فام باشندوں کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کیا جاتا تھا ۔اس کے برعکس کمیونزم میں معاشرے میں دولت کی مساوی تقسیم کا دعوٰی تھا۔ چین سے کینیڈا واپسی پر میں نے کمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ۔ لیکن پھر میں نے کمیونسٹ کو اندر سے دیکھا تو ان کے قول و فعل میں بہت تضاد پایا جاتا تھا۔ ان کے لیڈروں کی زندگیوں میں نظم و ضبط کا بہت فقدان تھا۔ ہر چیز کا وہ یہی بہانہ بناتے تھےکہ انقلاب کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا ۔وہ لوگ مالی فنڈز میں بھی بہت ہیرا پھیری کرتے تھےاور ان کے لیڈر نشہ کرنے کے عادی تھے ۔ اس وقت سے مجھ میں دھریت اور کمیونزم کےخلاف نفرت پیدا ہوگئی "۔
کینیڈا میں کالج کی تعلیم کے دوران ایک خاتون جسے ڈاکٹر بلال فلپس جانتے تھے ؛اس نے اسلام قبول کیا ۔ پھر اس کے بھائی نے بھی اسلام قبول کر لیا ۔ ڈاکٹر بلال نے بھی مختلف ادیان کا مطالعہ شروع کیا ۔ اس دوران میں انہوں نے ایک خواب بھی دیکھا کہ وہ سٹوریج ہاوس میں کوئی چیز لینے گئے اور چیز کی تلاش میں اندر چلتے گئے۔ آخر کا ر انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا لیکن واپسی کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا۔بہت کوشش کی لیکن سب راہیں بند پائیں ۔ آخر اس خوف کی حالت میں انہیں یقین ہوگیا کہ اب انہیں یہاں سے اللہ کی ذات ہی نکال سکتی ہے ۔ عین اسی لمحے ان کی آنکھ کھل گئی ۔ اس کے بعد انہیں خدا کے وجود کا یقین ہوگیا ۔ حق کی تلاش کے دوران مصر کے عالم محمد قطب کی کتاب " اسلام اور جدید ذہن کے شبہات " کا انگریزی ترجمہ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ پھر مولانا مودودی کا رسالہ " دینیات " (Towards understanding Islam ) پڑھا ، جس سے انہیں ، اسلام کی حقانیت کا یقین ہوگیا ۔ انہوں نے کالج میں اسلام کا دفاع شروع کر دیا ۔ بالآخر کچھ عرصہ کے غور و فکر کے بعد 1972 مں اسلام قبول کر لیا ۔
ڈاکٹر بلال فلپس اسلامی علوم کی تحصیل کے لیے سعودی عرب چلے گئے اور مدینہ یونیورسٹی سے 1979 میں " اصول الدین " میں بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے ۔پھر 1985 میں ریاض یونیورسٹی سے اسلامی فقہ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔1979 سے 1987 تک ریاض کے سیکنڈری اور ہائی اسکولوں اسلامی علوم اور عربی زبان کی تعلیم دیتے رہے ۔ 1994 میں انگلستان کی یونیورسٹی آف ویلز اسے اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی چند سال میں فلپائن کی " شریف کتسوان اسلامی یونیورسٹی " کے اسلامی علوم کے ڈیپارٹمنٹ میں ایم ایڈ کے طلبہ کو اسلامی فقہ پر درس دیتے رہے ۔
ڈاکٹر فلپس کے والدین پکے عیسائی تھے ۔ ان کے والد انگریزی کے استاد تھے۔ غیر مسلم ہونے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی اسلام پر کتابوں کی پروف ریڈنگ کرتے تھے۔ ڈاکٹر فلپس مسلسل اپنے والدین کو تبلیغ کرتے رہے اور ہمت نہ ہاری ۔ 20 سال بعد آخر ان کے والدین نے اسلام قبول کر لیا ۔


غیر مسلم فوجیوں میں اسلام کی تبلیغ

1990 کی دہائی میں سعودی ائیر فورس کے محکمہ مذہبی امورنے ڈاکٹر فلپس کو سعودی عرب کے صحراوں میں مقیم غیر مسلم فوجیوں کو اسلام کی تبلیغ کے کام کے لیے مامور کیا ۔ اس بارے میں ڈاکٹر فلپس نے ایک انٹرویو میں بتایا: "امریکی فوجیوں میں اسلامی کے متعلق مخصوص غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں۔ امریکہ میں انہیں حکم تھا کہ مسجد کے دس فٹ بھی قریب نہ جائیں ۔ ہم نےانہیں مساجد اندر سے دکھائیں ، وہ لوگ مسجدوں کی اندرونی سادگی سے بہت متاثر ہوئے ۔ جب وہ سعودیہ میں پہلی بار آئے تو انہیں یہاں کی مسلم خواتین کا پردہ بہت عجیب لگا ۔ لیکن یہاں کے مسلم معاشرے میں رہنے سے ان کی آنکھیں کھل گئیں ۔ امریکی فوجیوں کو وہاں صحرا وں میں مقیم بدووں کی مہمان نوازی نے بہت متاثر کیا جو ان کی تازہ کھجوروں اور دودھ سے تواضع کر تے تھے ۔انہوں نے جاپان اور کوریا میں کئی سال کے قیام کے باوجود ایسی مہمان نوازی نہیں دیکھی تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے امریکہ آکر فوج میں بھی اسلامی شعبوں کی تشکیل دی۔ یہ نومسلم فوجی آج امریکی کی فوج کے اندر مبلغین کا کام کر رہے ہیں ۔ (The Islamic Voice July 1998) یوں ڈاکٹر بلال فلپس کے اسلام کے متعلق لیکچرز سن کر سینکڑوں فوجیوں نے اسلام قبول کیا

ڈاکٹر بلال فلپس کی موسیقی سے توبہ

ڈاکٹر بلا ل فلپس قبول اسلام سے پہلے کینیڈا کے دارلخلافہ ٹورانٹو کے ایک نائٹ کلب میں ایک میوزیکل گروپ کے ساتھ گانا بجانا کیا کرتے تھے اور اپنے میوزیکل بینڈ کے گٹارسٹ تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک حدیث میں فرمایا: " تمام بنی آدم خطا کار ہیں اور ان میں سے بہترین وہ ہیں جو توبہ کر لیتے ہیں" ۔ (ترمذی )
توبہ کا دروازہ ہر کسی کے لیے کھلا ہو اہے۔ جب تک کہ انسان کانزع کا وقت نہ شروع ہو جائے ۔ کچھ لوگ مثالی توبہ کرتے ہیں ۔ان ہی میں ایک ڈاکٹر بلال فلپس ہیں ۔ جو موسیقی میں صرف دلچسپی ہی نہ رکھتے تھے بلکہ اس فن کے امام سمجھے جاتے تھے۔ پھر اللہ کی مہربانی سے انہوں نے نہ صرف گانے بجانے سے توبہ کی بلکہ اسلام قبول کرکے اسلامی علوم کی تحصیل میں اپنی زندگی لگادی ۔ اسلامی فقہ میں پی ایچ ڈی حاصل کی اور اس وقت سے پوری دنیا میں اسلامی علوم کی تبلیغ اور تدریس میں مصروف ہیں ۔ ایک مرتبہ اپنے ایک لیکچر میں چند نوجوانوں نے ان سےاسلام میں موسیقی کے مقام اور اپنے ذاتی تجربات پر روشنی ڈالنے کو کہا تو بلال فلپس نے درج ذیل جواب دیا: " حقیقت یہ ہے کہ میں نہ صرف موسیقی سنتا تھا بلکہ میں خود بھی گلوکار تھا ۔ میں مختلف قسم کے راک میوزک میں شامل رہا ۔میں گٹار بجایاکرتا تھااور ٹورانٹو کے ایک نائٹ کلب میں ایک میوزیکل گروپ کے ساتھ گانے گایا کرتا تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد شروع میں تو مجھے کسی نے نہیں بتایا کہ اسلام میں موسیقی حرام ہے ۔اس لیے میں ٹورانٹو کے مختلف نائٹ کلبوں میں گانا بجانا کرتا رہا ۔میں کینیڈا کے شہر وینکور میں بھی میوزیکل شو کر تا تھا ۔ تاہم اسلام قبول کرنے کے بعد میں نے یہ محسوس کرنا شروع کیا کہ جب میں نائٹ کلب میں ہوتا تھا تو وہ مجھے ایک مختلف دنیا لگتی تھی۔ میرے میوزیکل گروپ کے باقی تمام گلوکار منشیات استعمال کیا کرتے تھے ۔ نائٹ کلب میں تقریباً ہر شخص کسی نہ کسی چیز کا نشہ کرتا تھا اور وہاں صرف میں ہی ایک ایسا شخص تھا کہ جس کی عقل سلامت تھی۔ اور گوکہ میں جسمانی طورپر وہاں موجود ہوتا تھا لیکن میں وہاں کے حالات کا مشاہدہ کررہا تھا ۔مجھ پر بہت جلد واضح ہوگیا کہ وہ ماحول کتنا منحوس تھا۔ اب میرے لیے یہ ممکن نہ رہا تھا کہ میں اس کا حصہ بنا رہوں ۔ اس لیے میں نے خودہی فیصلہ کر لیا کہ میں موسیقی کو خیر باد کہہ دوں ۔ میں نے اپنے تمام آلات موسیقی بیچ ڈالے یا ضائع کر دیئے۔ بعدمیں اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد مجھ پر یہ آشکار ہو اکہ موسیقی اسلام میں حرام ہے۔
میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ لوگوں پر موسیقی کے اثرات گہرے ہیں۔ یہ بہت شدت والے اورانسان کو لت لگانے والے (Addictive) ہوتے ہیں ۔ موسیقی کے اثرات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ لوگ کسی بھی لمحےکوئی بھی گانا اپنے ذہن میں دھرا سکتے ہیں جو انہوں نے دس سال پہلے سنا ہوگا ، وہ حرف بہ حرف مکمل طورپر موجود ہوتا ہے ، کیونکہ وہ انسان کے دل میں جگہ بنا لیتا ہے اورآہستہ آہستہ انسان کا دل ایسے گانوں سے بھر جاتا ہے۔ پھر جب وہی انسان قرآن و حدیث پڑھتا ہے تو وہ انسان کے دل میں گھر نہیں کر سکتے کیونکہ قرآن اور گانے ایک جگہ نہیں رہ سکتے ۔ ہم جتنی زیادہ موسیقی سنیں گے ہمارے دلوں روحانی چیزوں کے لیے اتنی ہی جگہ کم ہوگی یعنی قرآن و حدیث اور دیگر دینی علوم اور بالآخر موسیقی جسے اکثر علمائے اسلام نے " شیطان کا کلام " کہا ہے وہ دل میں ایمان کی جگہ آئےگا۔
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ موسیقی ہمارے اوپر اثر انداز نہیں ہوگی اورہم صرف پڑھائی کرتے ہوئے یا کام کرتے ہوئے اسے سنتے ہیں لیکن انسان کے دل و دماغ اس طرح کام کرتے ہیں کہ اگر ہم کسی سسٹم میں "Data " مسلسل ڈالتے جائیں تو اس میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے لیکن یہ تبدیلی فوراً نہیں ہوتی بلکہ آہستگی سے ہوتی ہے ۔ دراصل گانے انسان کے تحت الشعورپر اثر انداز ہوتے ہیں اور آخر کار انسان کے کردار اوررویے کو تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اور یقیناً یہ چیز انسان کو اللہ سے دورکر دیتی ہے کیونکہ اگر موسیقی اور گانا بجانا انسان کو اللہ کے قریب کرتا تو اسلام میں اس کی ممانعت نہ ہوتی ۔ اس لیے ایک مسلمان کے لیے موسیقی کی عادت سے چھٹکارے کامطلب ہے کہ وہ اپنے پاس موجود تمام گانے بجانے کے ریکارڈ ، کیسٹس ،سی ڈیز وغیرہ سے چھٹکارا حاصل کرے کیونکہ ہم موسیقی سے ایسی حالت میں توبہ نہیں کر سکتے کہ ہمارے پاس یہ چیزیں بدستور موجود ہوں۔ ایسی صورت میں ان میں دوبارہ ملوث ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہییے کہ ہمارے پاس یہ چیزیں بدستور موجود ہوں ۔ ایسی صورت حال میں پھانسنے والی چیزوں سے دور رہیں ۔ تلاوت قرآن مجید زیادہ سے زیادہ سنیں ۔ عربی زبان سیکھنے کی کوشش کریں تا کہ جب ہم قرآن سنیں تو ہمیں اس کے معانی سمجھ میں آجائیں اور ہمیں ایسے لوگوں کی صحبت میں رہنا چاہییے جو اس طرح کے گناہ کے کاموں سے دور رہتے ہیں کیونکہ اگرہم ایسے لوگوں سے دوستی کریں گے اور ایسے لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں گے جو ہر وقت موسیقی سنتے رہتے ہیں توہمارے اس گناہ میں دوبارہ پھنس جانے کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے۔
(Discussion with youth , Audio Speech) اسی طرح ایک دوسرے موقع پر ڈاکٹر بلال فلپس نے بتایا کہ جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور موسیقی سے توبہ کر لی تو وہ اپنے گھر میں اپنے غیر مسلم دوستوں کو اسلام کی دعوت و تبلیغ کرنے کے لیے بلایا کرتے تھے ۔ انہوں نے بتایا : "میں نے یہ نوٹ کیا کہ میرے گھر میں مدعو غیر مسلم دوست احباب جب مجھ سے گفتگو میں مصروف ہوتے تو وہ کچھ اکتاہٹ محسوس کرتے تھے کیونکہ کمرے میں بیک گراونڈ موسیقی نہیں چل رہی ہوتی تھی۔ انہیں کسی چیز کی کمی کا احساس ہوتا تھا ۔
در اصل یہ مغربی تہذیب کا بہت بڑا ہتھکنڈہ ہے کہ چاہے ہم کسی ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں ہوں یا لیٹرین میں یا گاڑی میں ہوں ۔ ہر وقت موسیقی پس منظر میں چل رہی ہو ۔ ہر دم موسیقی سے لذت پانے سے یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ ہم ہر وقت دنیاوی لذات اور مادی خواہشات میں غرق رہیں اور اللہ کی یاد سے غافل رہیں وہ اس بات کی یقین دہانی کرتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنا وقت نہ کہ ہم اپنی زندگی کے اصل مقصد کے بارے میں سوچ سکیں " ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ موسیقی اور گانے بجانے کا اصل مقصد انسان کی روح کو سلا کر اس کے جسم کی خواہشات کو بیدار کرنا ہوتا ہے ۔ بقول اقبال


چشم آدم سے چھپاتے ہیں مقامات بلند
کرتے ہیں روح کو خوابیدہ جسم کو بیدار



اسکے برعکس قرآن سے ایک بنیادی سوال پوچھتا ہے "فاین تذھبون" ( سورۃ التکویر 26 ) اے انسان ! تو کہاں جارہا ہے ؟ہم آخر کس سمت میں جارہے ہیں ۔ یہ وہ سوال ہے جو قرآن ہم سے کرتا ہے اور صرف وہی ان کے جواب بھی مہیا کر کے
ڈاکٹر بلال فلپس کے پی ایچ ڈی مقالے کا موضوع تھا : " اسلام میں جھاڑ پھونک کی رسم
" ( The exorcist tradition in Islam ) اس کی تحقیق کے سلسلے میں 1991 میں انہوں نے انڈیا کا دورہ کیا ۔ پھر 1997 میں دوبارہ انڈیا آئے ۔ انہوں نے اسلامک وائس کے نمائندے کو انٹرویو میں بتایا: " جب میں نے 1997 میں کیرالا کا دورہ کیاتو مجھے مسلمانوں میں اسلام کا شعور نسبتاً زیادہ محسوس ہوا ۔ میں نے دیکھا کہ جماعت اسلامی ، تبلیغی جماعت اور اسلامک ریسرچ فاونڈیشن جیسی تنظیمیں اسلام کی تبلیغ اور مسلمانوں کی اصلاح کا بہت اچھا کا م سرانجام دے رہی ہیں ۔ جماعت اسلامی کے کام کا محور زیادہ تر یونیورسٹیاں اور انتہائی پڑھے لکھے لوگ (Individuals ) ہیں ان تما م تنظیموں کومل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ (The Islamic Voice July 1998)
ڈاکٹربلال فلپس اسلامی فقہ کی درس و تدریس اور اسلام کی تبلیغ کے علاوہ متعدد اسلامی کتب کے مصنف بھی ہیں ۔ ان کی چند کتابیں درج ذیل ہیں جوسب کی سب انگریزی میں ہیں ۔


1 ۔ مذاہب فقہ کا ارتقاء
2 ۔ عربی کا فن خطاطی
3 ۔ امام ابن تیمیہ کا جنات کے متعلق مضمون
4 ۔تفسیر سورۃ الحجرات
5 ۔ توحید کی بنیادیں
6 ۔ قرآن و سنت کے مطابق حج و عمرہ
7 ۔ قرآن کی تفسیر کے اصول
8 ۔ تلبیس ابلیس
9 ۔ اسلام و تعدد ازدواج
10 ۔ اسلام میں جھاڑ پھونک کی رسم

ترجمہ و تحریر : ڈاکٹر گوہر مشتاق
بشکریہ: خواتین میگزین فروری 2007
واپس


+ add to my favorite ilogs + flag objectionable content


Latest comments
Posted by izuber on Thursday April 17, 2008 01:20 pm
Can you please revise the title of this ilog and add Abbu before Amina like it is supposed to be.
He prefers to be known as Abbu Amina.
Thank you.

echoboom

  • Interacts: 2461
  • iLogs: 639
  • Gallery: 0
  • Page views: 143847
  • Last visitor: guest
  • Member since: Jul 31 2003
  • Last signin: Sep 4 2008
  • Send a message
  • Add as friend
  • Add to ignore list
  • Add to block list

Favorite iLogs

  • My MUSIC PAGE
  • The Cup of Coffee............... an interesting article tht i came across
  • The Circus
  • Some thoughts on Sufis and Sufism
  • An Occult Religion behind an Islamist fascade

Top 5 Articles This Week

  • Popular
  • Save Me From Charismatic Leaders!
  • Free to Breed
  • Why Zardari Should Be President!
  • US Commando Strike in Waziristan
  • There is no ‘honour’ in killing
  • Featured
  • There are a Lot of Monkeys
  • White Charade
  • Words of a Woman
  • FOX News and the Smelly Shoes
  • Dilemmas of Creative Children
  • 10 Years Ago
  • What’s in a name?
  • Massacre in Lahore
  • Abdus Salam
  • Don’t Go to the Bathroom in India!
  • The Bitter Taste of Milk: A Novel

Write on Chowk Interact Guidelines Privacy policy Terms Contact

Copyright © 1997 - 2008 chowk.com. All Rights Reserved
Reproduction of material on any www.chowk.com pages without prior written permissions is strictly prohibited